ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لشکر طیبہ سے تعلقات اور اہم شخصیتوں کے قتل کی سازش کا الزام،13؍ نوجوانوں کے اقبال جرم پر پانچ سال سزائے قید

لشکر طیبہ سے تعلقات اور اہم شخصیتوں کے قتل کی سازش کا الزام،13؍ نوجوانوں کے اقبال جرم پر پانچ سال سزائے قید

Sat, 17 Sep 2016 11:39:48    S.O. News Service

بنگلورو16؍ستمبر(ایس او نیوز) ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ سے مبینہ تعلقات اور ہندو لیڈروں میسور رکے رکن پارلیمان پرتاب سمہا اور سری رام سینا سربراہ پرمود متالک کے قتل کی سازش کے الزامات ثابت ہوجانے پر آج شہر کی عدالت نے 13؍ ملزمین کو پانچ سال قید اور سات ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ شہر کی خصوصی این آئی اے عدالت نے آج ان ملزمین کو یہ سزاسنائی۔ پولیس نے ان تمام نوجوانوں کو 29؍اگست 2012 کو منی ریڈی پالیہ کے مبارک محلہ کے ایک مکان سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ان پر الزام لگایا گیا کہ یہ پرتاب سمہا،پرمود متالک ، ٹرانسپورٹ وجئے سنکیشور ،صحافی وشویشور بھٹ ، بی جے پی لیڈر پرہلاد جوشی ، بجرنگ دل کے گنو جارتاکار، پولیس آفیسر بی دیانند ، ڈی ایم کرشنا راجو سمیت حیدرآباد اور نانڈیر کی چند اہم شخصیات کے علاوہ بعض دیگر سیاست دانوں کا قتل کرکے ملک بھر میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی سازش کے تحت یہ ٹولی ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کے اشارہ پر کام کررہی تھی۔ ملزمین کی شناخت شعیب احمد، مرزا پور چھوٹو ، عبدالحکیم جمعدار ، ریاض احمد بیاہٹی، محمد اکرم عرف خالد ، عبیداﷲ بہادرعرف عمران ، واحد حسین،کنکیا نور ،ڈاکٹر جعفر اقبال شولا پور، محمد صادق لشکر، محبوب باگلکوٹے، ذکریا عرف استاد ، عبیدالرحمن ، ڈاکٹر نعیم صدیقی شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ این آئی اے عدالت نے ان ملزمین کے خلاف فیصلہ ثبوت سے بڑھ کر ان ملزمین کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر صادر کیا ہے۔سی سی بی اور این آئی اے نے ملزمین کے خلاف جو چارج شیٹ داخل کی تھی اس میں ان کے پاس سے بھاری مقدار میں اسلحہ ضبط کرنے اور ملزمین کی طرف سے اہم شخصیات کا کام تمام کرنے کے متعلق ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ کیاتھا۔ ان ملزمین کی طرف سے ہوئی بات چیت ، تکنیکی کارگذاریوں ، ای میل، ایس ایم ایس ، دہشت گرد تنظیم سے جڑی تصاویر ، قتل کیلئے جن شخصیتوں کو چنا گیاتھا ان کے گھروں کے نقشے ، پتے وغیرہ جمع کئے گئے تھے۔این آئی اے کو اس سلسلے میں 350گواہوں کے بیانات دینے کا وعدہ کیاگیا تھا لیکن تحقیقاتی ایجنسی صرف 36 گواہوں سے بیانات لے پائی۔اس دوران اس کیس میں گرفتار دیگر چار ملزمین جن میں صحافی مطیع الرحمن صدیقی، ڈی آر ڈی او انجینئر ، اعجاز احمد مرزا اور دیگر دو کو چھ ماہ بعد ثبوت نہ ملنے کی بنیاد پر رہا کردیا گیا۔ گرفتاری کے چار سال گزر جانے کے بعد بھی ان ملزمین کو بغیر کسی سماعت اور مقدمے کی پیش رفت کی بناء جیلوں میں سڑایا جارہا تھا۔ ضمانت دینے سے بھی بارہا مختلف عدالتوں کی طرف سے انکار کیا جارہا تھا، ان لڑکوں کے والدین نے بتایاکہ پولیس کے اس رویہ سے تنگ آکر تمام نے اقبال جرم کیا ہے تاکہ ایک سال میں ان تمام کی سزا پوری ہوجائے اور وہ جیل سے رہا ہوسکیں۔ 


Share: